بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
حٰم.
ابوالاعلی مودودی
ح م
احمد رضا خان
حٰمٓ
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ حمٓ ﴿1﴾
حٰم.
ح م
حٰمٓ
وَٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿2﴾
قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی.
قسم ہے اِس کتاب مبین کی
قسم اس روشن کتاب کی
إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةٍۢ مُّبَٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿3﴾
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات[1] میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.[2]
کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے
بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں
فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ﴿4﴾
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے.[1]
یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام
أَمْرًۭا مِّنْ عِندِنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ﴿5﴾
ہمارے پاس سے حکم ہوکر[1] ، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے.
ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے
ہمارے پاس کے حکم سے، بیشک ہم بھیجنے والے ہیں
رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ﴿6﴾
آپ کے رب کی مہربانی سے[1] ۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ.
تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿7﴾
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو.
آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اُس چیز کا رب جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو
وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تمہیں یقین ہو
لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿8﴾
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا.[1]
کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تمہارا رب اور تمہارے اُن اسلاف کا رب جو پہلے گزر چکے ہیں
اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ يَلْعَبُونَ ﴿9﴾
بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں.[1]
(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
فَٱرْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿10﴾
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا.[1]
اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا
تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
يَغْشَى ٱلنَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ﴿11﴾
جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے.
اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا
کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب،
رَّبَّنَا ٱكْشِفْ عَنَّا ٱلْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿12﴾
کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں.[1]
(اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"
اس دن کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں
أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مُّبِينٌۭ ﴿13﴾
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے.
اِن کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسول مبین آ گیا
کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا
ثُمَّ تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَقَالُوا۟ مُعَلَّمٌۭ مَّجْنُونٌ ﴿14﴾
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے.
پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ "یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے"
اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے
إِنَّا كَاشِفُوا۟ ٱلْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ ﴿15﴾
ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے.
ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے
ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے
يَوْمَ نَبْطِشُ ٱلْبَطْشَةَ ٱلْكُبْرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ﴿16﴾
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے[1] ، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں.
جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے
جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں،
۞ وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُمْ رَسُولٌۭ كَرِيمٌ ﴿17﴾
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں[1] جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا.
ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا
اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور ان کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا
أَنْ أَدُّوٓا۟ إِلَىَّ عِبَادَ ٱللَّهِ ۖ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿18﴾
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر[1] دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں.[2]
اور اس نے کہا "اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سپرد کردو بیشک میں تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں،
وَأَن لَّا تَعْلُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّىٓ ءَاتِيكُم بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿19﴾
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو[1] ، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں.[2]
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی) صریح سند پیش کرتا ہوں
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ ﴿20﴾
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو.[1]
اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو
اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ لِى فَٱعْتَزِلُونِ ﴿21﴾
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو.[1]
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو"
اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌۭ مُّجْرِمُونَ ﴿22﴾
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں.[1]
آخرکار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں،
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿23﴾
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا[1] پیچھا کیا جائے گا.
(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا
ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا
وَٱتْرُكِ ٱلْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌۭ مُّغْرَقُونَ ﴿24﴾
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا[1] ، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا.
سمندر کو اُس کے حال پر کھلا چھوڑ دے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے
اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا
كَمْ تَرَكُوا۟ مِن جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ ﴿25﴾
وه بہت سے باغات[1] اور چشمے چھوڑ گئے.
" کتنے ہی باغ اور چشمے
کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے،
وَزُرُوعٍۢ وَمَقَامٍۢ كَرِيمٍۢ ﴿26﴾
اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے.
اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے
او رکھیت اور عمدہ مکانات
وَنَعْمَةٍۢ كَانُوا۟ فِيهَا فَٰكِهِينَ ﴿27﴾
اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے.
کتنے ہی عیش کے سر و سامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے
اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے
كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَٰهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ ﴿28﴾
اسی طرح ہوگیا[1] اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا.[2]
یہ ہوا اُن کا انجام، اور ہم نے دوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا
ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ وَمَا كَانُوا۟ مُنظَرِينَ ﴿29﴾
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین[1] روئے اور نہ انہیں مہلت ملی.
پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین، اور ذرا سی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی
تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ ﴿30﴾
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی.
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی
مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيًۭا مِّنَ ٱلْمُسْرِفِينَ ﴿31﴾
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا.
فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا
فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے،
وَلَقَدِ ٱخْتَرْنَٰهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿32﴾
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی.[1]
اور اُن کی حالت جانتے ہوئے، اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی
اور بیشک ہم نے انہیں دانستہ چن لیا اس زمانے والوں سے،
وَءَاتَيْنَٰهُم مِّنَ ٱلْءَايَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٌۭا۟ مُّبِينٌ ﴿33﴾
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.[1]
اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی
ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ ﴿34﴾
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں.[1]
یہ لوگ کہتے ہیں
بیشک یہ کہتے ہیں،
إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ ﴿35﴾
کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم[1] دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے.
"ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں اُس کے بعد ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں
وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے
فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿36﴾
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ.[1]
اگر تم سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو"
تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو
أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍۢ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَٰهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ ﴿37﴾
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے.[1]
یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے
کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَٰعِبِينَ ﴿38﴾
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا.[1]
یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں
اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر
مَا خَلَقْنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿39﴾
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا[1] ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے.[2]
اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ مِيقَٰتُهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿40﴾
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے.[1]
اِن سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے
بیشک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے،
يَوْمَ لَا يُغْنِى مَوْلًى عَن مَّوْلًۭى شَيْـًۭٔا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴿41﴾
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.[1]
وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی
إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿42﴾
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے.
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے
مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ ﴿43﴾
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت.
زقوم کا درخت
بیشک تھوہڑ کا پیڑ
طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ ﴿44﴾
گناه گار کا کھانا ہے.
گناہ گار کا کھاجا ہوگا
گنہگاروں کی خوراک ہے
كَٱلْمُهْلِ يَغْلِى فِى ٱلْبُطُونِ ﴿45﴾
جو مثل تلچھٹ[1] کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے.
تیل کی تلچھٹ جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا
گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے،
كَغَلْىِ ٱلْحَمِيمِ ﴿46﴾
مثل تیز گرم پانی کے.[1]
جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے
جیسا کھولتا پانی جوش مارے
خُذُوهُ فَٱعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ ﴿47﴾
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ.[1]
" پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاؤ اِس کو جہنم کے بیچوں بیچ
اسے پکڑو ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ،
ثُمَّ صُبُّوا۟ فَوْقَ رَأْسِهِۦ مِنْ عَذَابِ ٱلْحَمِيمِ ﴿48﴾
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ.
اور انڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب
پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو
ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْكَرِيمُ ﴿49﴾
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا.[1]
چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تُو
چکھ، ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے
إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمْتَرُونَ ﴿50﴾
یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے.
یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"
بیشک یہ ہے وہ جس میں تم شبہہ کرتے تھے
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى مَقَامٍ أَمِينٍۢ ﴿51﴾
بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے.
خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے
بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں
فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ ﴿52﴾
باغوں اور چشموں میں.
باغوں اور چشموں میں
باغوں اور چشموں میں،
يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍۢ وَإِسْتَبْرَقٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ ﴿53﴾
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے.[1]
حریر و دیبا کے لباس پہنے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
پہنیں گے کریب اور قنادیز آمنے سامنے
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجْنَٰهُم بِحُورٍ عِينٍۢ ﴿54﴾
یہ اسی طرح ہے[1] اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے.[2]
یہ ہوگی ان کی شان اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں ان سے بیاہ دیں گے
یونہی ہے، اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے،
يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ ﴿55﴾
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے.[1]
وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے
اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلْمَوْتَ إِلَّا ٱلْمَوْتَةَ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَوَقَىٰهُمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ ﴿56﴾
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت[1] (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا.
وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،
اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا،
فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿57﴾
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے[1] ، یہی ہے بڑی کامیابی.
ان کو جہنم کے عذاب سے بچا دے گا یہی بڑی کامیابی ہے
تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے،
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿58﴾
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں.
اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں
تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کیا کہ وہ سمجھیں
فَٱرْتَقِبْ إِنَّهُم مُّرْتَقِبُونَ ﴿59﴾
اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں.[1]
اب تم بھی انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں
تو تم انتظار کرو وہ بھی کسی انتظار میں ہیں