بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں.[1]
ابوالاعلی مودودی
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی
احمد رضا خان
مجھے اس شہر کی قسم
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿1﴾
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں.[1]
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی
مجھے اس شہر کی قسم
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿2﴾
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں.[1]
اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے
کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ ﴿3﴾
اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اوﻻد کی.[1]
اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِى كَبَدٍ ﴿4﴾
یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے.[1]
درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے
بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ ﴿5﴾
کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں ہی نہیں؟[1]
کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا ﴿6﴾
کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے تو بہت کچھ مال خرچ کر ڈاﻻ.[1]
کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا
کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ ﴿7﴾
کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟[1]
کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا؟
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ ﴿8﴾
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں.[1]
کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ ﴿9﴾
اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے).[1]
اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟
اور زبان اور دو ہونٹ
وَهَدَيْنَٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ ﴿10﴾
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے.[1]
اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟
اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی
فَلَا ٱقْتَحَمَ ٱلْعَقَبَةَ ﴿11﴾
سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا.[1]
مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی
پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْعَقَبَةُ ﴿12﴾
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟.
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟
اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے
فَكُّ رَقَبَةٍ ﴿13﴾
کسی گردن (غلام ،لونڈی) کو آزاد کرنا.
کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا
کسی بندے کی گردن چھڑانا
أَوْ إِطْعَٰمٌۭ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍۢ ﴿14﴾
یا بھوک والے دن کھانا کھلانا.
یا فاقے کے دن
یا بھوک کے دن کھانا دینا
يَتِيمًۭا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴿15﴾
کسی رشتہ دار یتیم کو.
کسی قریبی یتیم
رشتہ دار یتیم کو،
أَوْ مِسْكِينًۭا ذَا مَتْرَبَةٍۢ ﴿16﴾
یا خاکسار مسکین کو.[1]
یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا
یا خاک نشین مسکین کو
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْمَرْحَمَةِ ﴿17﴾
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے[1] اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں.[2]
پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی
پھر ہو ان سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں
أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ﴿18﴾
یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے).
یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے
یہ دہنی طرف والے ہیں
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا هُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ ﴿19﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں.
اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں
اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے
عَلَيْهِمْ نَارٌۭ مُّؤْصَدَةٌۢ ﴿20﴾
انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری[1] ہوئی ہوگی.
ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی
ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی