بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
اے کپڑا اوڑھنے والے.[1]
ابوالاعلی مودودی
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے
احمد رضا خان
اے بالا پوش اوڑھنے والے!
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ ﴿1﴾
اے کپڑا اوڑھنے والے.[1]
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے
اے بالا پوش اوڑھنے والے!
قُمْ فَأَنذِرْ ﴿2﴾
کھڑا ہوجا اور آگاه کردے.[1]
اٹھو اور خبردار کرو
کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿3﴾
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر.
اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿4﴾
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر.[1]
اور اپنے کپڑے پاک رکھو
اور اپنے کپڑے پاک رکھو
وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ ﴿5﴾
ناپاکی کو چھوڑ دے.[1]
اور گندگی سے دور رہو
اور بتوں سے دور رہو،
وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ ﴿6﴾
اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر.[1]
اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے
اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو
وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِرْ ﴿7﴾
اور اپنے رب کی راه میں صبر کر.
اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو
فَإِذَا نُقِرَ فِى ٱلنَّاقُورِ ﴿8﴾
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی.
اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی
پھر جب صور پھونکا جائے گا
فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍۢ يَوْمٌ عَسِيرٌ ﴿9﴾
تو وه دن بڑا سخت دن ہوگا.
وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا
تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍۢ ﴿10﴾
جو کافروں پر آسان نہ ہوگا.[1]
کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا
کافروں پر آسان نہیں
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًۭا ﴿11﴾
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے.[1]
چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا
وَجَعَلْتُ لَهُۥ مَالًۭا مَّمْدُودًۭا ﴿12﴾
اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے.
بہت سا مال اُس کو دیا
اور اسے وسیع مال دیا
وَبَنِينَ شُهُودًۭا ﴿13﴾
اور حاضر باش فرزند بھی.[1]
اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے
اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے
وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمْهِيدًۭا ﴿14﴾
اور میں نے اسے بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے.[1]
اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی
اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں
ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿15﴾
پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیاده دوں.[1]
پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں
پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں
كَلَّآ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِءَايَٰتِنَا عَنِيدًۭا ﴿16﴾
نہیں نہیں، [1] وه ہماری آیتوں کا مخالف ہے.[2]
ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے
ہرگز نہیں وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،
سَأُرْهِقُهُۥ صَعُودًا ﴿17﴾
عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا.[1]
میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا
قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،
إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿18﴾
اس نے غور کرکے تجویز کی.[1]
اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی
بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿19﴾
اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟
تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی
تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿20﴾
وه پھر غارت ہو کس طرح اندازه کیا.[1]
ہاں، خدا کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی
پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
ثُمَّ نَظَرَ ﴿21﴾
اس نے پھر دیکھا.[1]
پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا
پھر نظر اٹھا کر دیکھا،
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿22﴾
پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا.[1]
پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،
ثُمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْبَرَ ﴿23﴾
پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا.[1]
پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا
پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا،
فَقَالَ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ يُؤْثَرُ ﴿24﴾
اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے.[1]
آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے
پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا،
إِنْ هَٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَرِ ﴿25﴾
سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے.
یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے
یہ نہیں مگر آدمی کا کلام
سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿26﴾
میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا.
عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا
کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سَقَرُ ﴿27﴾
اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟[1]
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟
اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ ﴿28﴾
نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے.[1]
نہ باقی رکھے نہ چھوڑے
نہ چھوڑے نہ لگی رکھے
لَوَّاحَةٌۭ لِّلْبَشَرِ ﴿29﴾
کھال کو جھلسا دیتی ہے.
کھال جھلس دینے والی
آدمی کی کھال اتار لیتی ہے
عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ﴿30﴾
اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں.[1]
انیس کارکن اُس پر مقرر ہیں
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةًۭ ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةًۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَٰنًۭا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ وَٱلْكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًۭا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ ﴿31﴾
ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے[1] تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں[2]، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے[3] اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے[4]؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے[5]۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا[6]، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے.[7]
ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
كَلَّا وَٱلْقَمَرِ ﴿32﴾
سچ کہتا ہوں[1] قسم ہے چاند کی.
ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی
ہاں ہاں چاند کی قسم،
وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿33﴾
اور رات کی جب وه پیچھے ہٹے.
اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے
اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ ﴿34﴾
اور صبح کی جب کہ روشن ہو جائے.
اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے
اور صبح کی جب اجا لا ڈالے
إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ ﴿35﴾
کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے.[1]
یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے
بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،
نَذِيرًۭا لِّلْبَشَرِ ﴿36﴾
بنی آدم کو ڈرانے والی.
انسانوں کے لیے ڈراوا
آدمیوں کو ڈراؤ،
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ ﴿37﴾
(یعنی) اسے[1] جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے.[2]
تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے
اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے یا پیچھے رہے
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿38﴾
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے.[1]
ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے
ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
إِلَّآ أَصْحَٰبَ ٱلْيَمِينِ ﴿39﴾
مگر دائیں ہاتھ والے.[1]
دائیں بازو والوں کے سوا
مگر دہنی طرف والے
فِى جَنَّٰتٍۢ يَتَسَآءَلُونَ ﴿40﴾
کہ وه بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) گناه گاروں سے.
جو جنتوں میں ہوں گے وہاں وہ،
باغوں میں پوچھتے ہیں،
عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ ﴿41﴾
سوال کرتے ہوں گے.[1]
مجرموں سے پوچھیں گے
مجرموں سے،
مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ ﴿42﴾
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ.
"تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟"
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ ﴿43﴾
وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے.
وہ کہیں گے "ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے
وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے،
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ ﴿44﴾
نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے.[1]
اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے
اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے
وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ ﴿45﴾
اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے.[1]
اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿46﴾
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے.
اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے
اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے،
حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ ﴿47﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی.[1]
یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز سے سابقہ پیش آ گیا"
یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ ﴿48﴾
پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی.[1]
اُس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی
فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿49﴾
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں.
آخر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں
تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں
كَأَنَّهُمْ حُمُرٌۭ مُّسْتَنفِرَةٌۭ ﴿50﴾
گویا کہ وه بِدکے ہوئے گدھے ہیں.
گویا یہ جنگلی گدھے ہیں
گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ ﴿51﴾
جو شیر سے بھاگے ہوں.[1]
جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں
کہ شیر سے بھاگے ہوں
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًۭا مُّنَشَّرَةًۭ ﴿52﴾
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں.[1]
بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلْءَاخِرَةَ ﴿53﴾
ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں.[1]
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے
ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌۭ ﴿54﴾
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے.[1]
ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے
ہاں ہاں بیشک وہ نصیحت ہے،
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ﴿55﴾
اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے.
اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کر لے
تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،
وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ ٱلتَّقْوَىٰ وَأَهْلُ ٱلْمَغْفِرَةِ ﴿56﴾
اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے[1] ، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے.[2]
اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے
اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،