بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی.
ابوالاعلی مودودی
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
احمد رضا خان
کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿1﴾
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی.
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿2﴾
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں.
جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں
وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ﴿3﴾
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں.[1]
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں
اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،
أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ﴿4﴾
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں.
کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن،
کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،
لِيَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿5﴾
اس عظیم دن کے لئے.
یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟
ایک عظمت والے دن کے لیے
يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿6﴾
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.[1]
اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍۢ ﴿7﴾
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے.[1]
ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے
بیشک کافروں کی لکھت سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌۭ ﴿8﴾
تجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟
اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے
كِتَٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ﴿9﴾
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے
وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿10﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے.
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿11﴾
جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے.
جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں
جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿12﴾
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے.
اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے
اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿13﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں.[1]
اُسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے اگلوں کی کہانیاں ہیں،
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿14﴾
یوں نہیں[1] بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے.[2]
ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے
کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے
كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿15﴾
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے.[1]
ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے
ہاں ہاں بیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ ﴿16﴾
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے.
پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے
پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،
ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ﴿17﴾
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے.
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ جسے تم جھٹلاتے تھے
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ ﴿18﴾
لرگزنہیں،بےشک نیکوکاروں کے اعمال نامے علییں میں ہیں .[1]
ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے
ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت سب سے اونچا محل علیین میں ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿19﴾
اورتجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟
اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟
اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے
كِتَٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ﴿20﴾
(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
ایک لکھی ہوئی کتاب ہے
وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے
يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿21﴾
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں.
جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں
کہ مقرب جس کی زیارت کرتے ہیں،
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ ﴿22﴾
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے.
بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے
بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿23﴾
مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے
تختوں پر دیکھتے ہیں
تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِ ﴿24﴾
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گا.[1]
ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے
تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍۢ مَّخْتُومٍ ﴿25﴾
یہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گے.[1]
ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی
نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے
خِتَٰمُهُۥ مِسْكٌۭ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَٰفِسُونَ ﴿26﴾
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے.[1]
جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں
اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے
وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍ ﴿27﴾
اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی.[1]
اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی
اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے
عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿28﴾
(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے.
یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے
وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَ ﴿29﴾
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے.[1]
مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے
بیشک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے،
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿30﴾
اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھے.[1]
جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے
اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَ ﴿31﴾
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے.[1]
اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے
اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ ﴿32﴾
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں.[1]
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں
اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں
وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَٰفِظِينَ ﴿33﴾
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے.[1]
حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے
اور یہ کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے
فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ ﴿34﴾
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے.[1]
آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں
تو آج ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿35﴾
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں
تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں
هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴿36﴾
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا.[1]
مل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے
کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا