بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
جب قیامت قائم ہو جائے گی.[1]
ابوالاعلی مودودی
جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا
احمد رضا خان
جب ہولے گی وہ ہونے والی
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ ﴿1﴾
جب قیامت قائم ہو جائے گی.[1]
جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا
جب ہولے گی وہ ہونے والی
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﴿2﴾
جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں.
تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا
اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
خَافِضَةٌۭ رَّافِعَةٌ ﴿3﴾
وه پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی.[1]
وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی
کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی
إِذَا رُجَّتِ ٱلْأَرْضُ رَجًّۭا ﴿4﴾
جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی.
زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی
جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر
وَبُسَّتِ ٱلْجِبَالُ بَسًّۭا ﴿5﴾
اور پہاڑ بالکل ریزه ریزه کر دیے جائیں گے.[1]
اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے
اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکر
فَكَانَتْ هَبَآءًۭ مُّنۢبَثًّۭا ﴿6﴾
پھر وه مثل پراگنده غبار کے ہو جائیں گے.
کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
وَكُنتُمْ أَزْوَٰجًۭا ثَلَٰثَةًۭ ﴿7﴾
اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے.[1]
تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے
اور تین قسم کے ہوجاؤ گے،
فَأَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ﴿8﴾
پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے.[1]
دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا
تو دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے
وَأَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ ﴿9﴾
اور بائیں ہاتھ والے کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا.[1]
اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا
اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ ﴿10﴾
اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں.[1]
اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں
اور جو سبقت لے گئے وہ تو سبقت ہی لے گئے
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿11﴾
وه بالکل نزدیکی حاصل کیے ہوئے ہیں.
وہی تو مقرب لوگ ہیں
وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ﴿12﴾
نعمتوں والی جنتوں میں ہیں.
نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے
چین کے باغوں میں،
ثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿13﴾
(بہت بڑا) گروه تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا.
اگلوں میں سے بہت ہوں گے
اگلوں میں سے ایک گروہ
وَقَلِيلٌۭ مِّنَ ٱلْءَاخِرِينَ ﴿14﴾
اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے.[1]
اور پچھلوں میں سے کم
اور پچھلوں میں سے تھوڑے
عَلَىٰ سُرُرٍۢ مَّوْضُونَةٍۢ ﴿15﴾
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر.
مرصع تختوں پر
جڑاؤ تختوں پر ہوں گے
مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيْهَا مُتَقَٰبِلِينَ ﴿16﴾
ایک دوسرے کےسامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے.[1]
تکیے لگا ئے آمنے سامنے بیٹھیں گے
ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌۭ مُّخَلَّدُونَ ﴿17﴾
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی[1] ) رہیں گے آمدورفت کریں گے.
اُن کی مجلسوں میں ابدی لڑکے شراب چشمہ جاری سے
ان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے
بِأَكْوَابٍۢ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍۢ مِّن مَّعِينٍۢ ﴿18﴾
آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو.
لبریز پیالے کنٹر اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہونگے
کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ﴿19﴾
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے.[1]
جسے پی کر نہ اُن کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے
وَفَٰكِهَةٍۢ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ﴿20﴾
اور ایسے میوے لیے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں.
اور وہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں
اور میوے جو پسند کریں
وَلَحْمِ طَيْرٍۢ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ﴿21﴾
اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں.
اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں
اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں
وَحُورٌ عِينٌۭ ﴿22﴾
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں.
اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہونگی
اور بڑی آنکھ والیاں حوریں
كَأَمْثَٰلِ ٱللُّؤْلُؤِ ٱلْمَكْنُونِ ﴿23﴾
جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں.[1]
ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی
جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی
جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿24﴾
یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا.
یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے
صلہ ان کے اعمال کا
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًۭا وَلَا تَأْثِيمًا ﴿25﴾
نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات.
وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے
اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری
إِلَّا قِيلًۭا سَلَٰمًۭا سَلَٰمًۭا ﴿26﴾
صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی.[1]
جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی
ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام
وَأَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ ﴿27﴾
اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے.[1]
اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا
اور دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے
فِى سِدْرٍۢ مَّخْضُودٍۢ ﴿28﴾
وه بغیرکانٹوں کی بیریوں.
وہ بے خار بیریوں
بے کانٹوں کی بیریوں میں
وَطَلْحٍۢ مَّنضُودٍۢ ﴿29﴾
اور تہ بہ تہ کیلوں.
اور تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں
اور کیلے کے گچھوں میں
وَظِلٍّۢ مَّمْدُودٍۢ ﴿30﴾
اور لمبے لمبے سایوں.[1]
اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں
اور ہمیشہ کے سائے میں
وَمَآءٍۢ مَّسْكُوبٍۢ ﴿31﴾
اور بہتے ہوئے پانیوں.
اور ہر دم رواں پانی
اور ہمیشہ جاری پانی میں
وَفَٰكِهَةٍۢ كَثِيرَةٍۢ ﴿32﴾
اور بکثرت پھلوں میں.
اور کبھی ختم نہ ہونے والے
اور بہت سے میووں میں
لَّا مَقْطُوعَةٍۢ وَلَا مَمْنُوعَةٍۢ ﴿33﴾
جو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں.[1]
اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں
جو نہ ختم ہوں اور نہ روکے جائیں
وَفُرُشٍۢ مَّرْفُوعَةٍ ﴿34﴾
اور اونچے اونچے فرشوں میں ہوں گے.[1]
اور اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے
اور بلند بچھونوں میں
إِنَّآ أَنشَأْنَٰهُنَّ إِنشَآءًۭ ﴿35﴾
ہم نے ان کی (بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے.
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے
بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
فَجَعَلْنَٰهُنَّ أَبْكَارًا ﴿36﴾
اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے.[1]
اور انہیں با کرہ بنا دیں گے
تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
عُرُبًا أَتْرَابًۭا ﴿37﴾
محبت والیاں اور ہم عمر ہیں.[1]
اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن
انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں
لِّأَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ ﴿38﴾
دائیں ہاتھ والوں کے لیے ہیں.
یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے
دہنی طرف والوں کے لیے،
ثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿39﴾
جم غفیر ہے اگلوں میں سے.[1]
وہ اگلوں میں سے بہت ہوں گے
اگلوں میں سے ایک گروہ،
وَثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْءَاخِرِينَ ﴿40﴾
اور بہت بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے.[1]
اور پچھلوں میں سے بھی بہت
اور پچھلوں میں سے ایک گروہ
وَأَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ ﴿41﴾
اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے[1]
اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا
اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے
فِى سَمُومٍۢ وَحَمِيمٍۢ ﴿42﴾
گرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے).
وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی
جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں،
وَظِلٍّۢ مِّن يَحْمُومٍۢ ﴿43﴾
اورسیاه دھوئیں کے سائے میں.[1]
اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے
اور جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں
لَّا بَارِدٍۢ وَلَا كَرِيمٍ ﴿44﴾
جو نہ ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش.[1]
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ
جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی،
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ﴿45﴾
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں میں پلے ہوئے تھے.[1]
یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے
بیشک وہ اس سے پہلے نعمتوں میں تھے
وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيمِ ﴿46﴾
اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے.
اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے
اور اس بڑے گناہ کی ہٹ (ضد) رکھتے تھے،
وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًۭا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿47﴾
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں گے.
کہتے تھے "کیا جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟
اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے،
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ ﴿48﴾
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟[1]
اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟"
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِينَ وَٱلْءَاخِرِينَ ﴿49﴾
آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے.
اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہو، یقیناً اگلے اور پچھلے سب
تم فرماؤ بیشک سب اگلے اور پچھلے
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوْمٍۢ مَّعْلُومٍۢ ﴿50﴾
ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت.
ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے
ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَ ﴿51﴾
پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو!
پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو!
پھر بیشک تم اے گمراہو جھٹلانے والو
لَءَاكِلُونَ مِن شَجَرٍۢ مِّن زَقُّومٍۢ ﴿52﴾
البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت.
تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو
ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ ﴿53﴾
اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو.[1]
اُسی سے تم پیٹ بھرو گے
پھر اس سے پیٹ بھرو گے،
فَشَٰرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْحَمِيمِ ﴿54﴾
پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو.
اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی
پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے،
فَشَٰرِبُونَ شُرْبَ ٱلْهِيمِ ﴿55﴾
پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح.[1]
تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے
پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں
هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ ٱلدِّينِ ﴿56﴾
قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے.[1]
یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں
یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
نَحْنُ خَلَقْنَٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ﴿57﴾
ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟[1]
ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟
ہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں نہیں سچ مانتے
أَفَرَءَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ﴿58﴾
اچھا پھر یہ تو بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو.
کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو
تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو
ءَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَٰلِقُونَ ﴿59﴾
کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں؟[1]
اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟
کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿60﴾
ہم ہی نے تم میں موت کو متعین کر دیا[1] ہے اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں.[2]
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا اور ہم اس سے ہارے نہیں،
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿61﴾
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو.[1]
کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے
کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں حبر نہیں
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ﴿62﴾
تمہیں یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟[1]
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟
اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اٹھان پھر کیوں نہیں سوچتے
أَفَرَءَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ﴿63﴾
اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو.
کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو
تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،
ءَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ﴿64﴾
اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں.[1]
اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟
کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَٰهُ حُطَٰمًۭا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ﴿65﴾
اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ.[1]
ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ
ہم چاہیں تو اسے روندن (پامال) کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ﴿66﴾
کہ ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا.[1]
کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی
کہ ہم پر چٹی پڑی
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿67﴾
بلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے.
بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں
بلکہ ہم بے نصیب رہے،
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلْمَآءَ ٱلَّذِى تَشْرَبُونَ ﴿68﴾
اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو.
کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو
تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،
ءَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنزِلُونَ ﴿69﴾
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے
لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَٰهُ أُجَاجًۭا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ﴿70﴾
اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکرگزاری کیوں نہیں کرتے؟[1]
ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟
ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں پھر کیوں نہیں شکر کرتے
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَ ﴿71﴾
اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو.
کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو
تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو
ءَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشِـُٔونَ ﴿72﴾
اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟[1]
اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟
کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے،
نَحْنُ جَعَلْنَٰهَا تَذْكِرَةًۭ وَمَتَٰعًۭا لِّلْمُقْوِينَ ﴿73﴾
ہم نے اسے سبب نصیحت[1] اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے.[2]
ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے
ہم نے اسے جہنم کا یادگار بنایا اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ ﴿74﴾
پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو.
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
۞ فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ﴿75﴾
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.[1]
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں
وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌۭ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿76﴾
اور اگرتمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے.
اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے
اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے،
إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٌۭ كَرِيمٌۭ ﴿77﴾
کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت واﻻ ہے.[1]
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے
بیشک یہ عزت والا قرآن ہے
فِى كِتَٰبٍۢ مَّكْنُونٍۢ ﴿78﴾
جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے[1]
ایک محفوظ کتاب میں ثبت
محفوظ نوشتہ میں
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَ ﴿79﴾
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں.[1]
جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو
تَنزِيلٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿80﴾
یہ رب العالمین کی طرف سےاترا ہوا ہے.
یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے
اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،
أَفَبِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿81﴾
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟[1]
پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو
تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ﴿82﴾
اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو.
اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟
اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو
فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَ ﴿83﴾
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے.
تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے
پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے
وَأَنتُمْ حِينَئِذٍۢ تَنظُرُونَ ﴿84﴾
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو.[1]
اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے،
اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿85﴾
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده قریب ہوتے ہیں[1] لیکن تم نہیں دیکھ سکتے.[2]
اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اُس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے
اور ہم اس کے زیادہ پاس ہیں تم سے مگر تمہیں نگاہ نیں
فَلَوْلَآ إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿86﴾
پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں.
اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اِس خیال میں سچے ہو،
تو کیوں نہ ہوا اگر تمہیں بدلہ ملنا نہیں
تَرْجِعُونَهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿87﴾
اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ.[1]
اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟
کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو
فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ﴿88﴾
پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا.[1]
پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو
پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے
فَرَوْحٌۭ وَرَيْحَانٌۭ وَجَنَّتُ نَعِيمٍۢ ﴿89﴾
اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے.
تو اس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے
تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ ﴿90﴾
اور جو شحص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے.[1]
اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو
اور اگر دہنی طرف والوں سے ہو
فَسَلَٰمٌۭ لَّكَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ ﴿91﴾
تو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے.
تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے، تو اصحاب الیمین میں سے ہے
تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ ﴿92﴾
لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے.[1]
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو
اور اگر جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو
فَنُزُلٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ ﴿93﴾
تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے.
تو اس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ﴿94﴾
اور دوزخ میں جانا ہے.
اور جہنم میں جھونکا جانا
اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلْيَقِينِ ﴿95﴾
یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے.
یہ سب کچھ قطعی حق ہے
یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ ﴿96﴾
پس تواپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر.[1]
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو