بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلرَّحْمَٰنُ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
رحمٰن نے.
ابوالاعلی مودودی
رحمٰن نے
احمد رضا خان
رحمٰن
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلرَّحْمَٰنُ ﴿1﴾
رحمٰن نے.
رحمٰن نے
رحمٰن
عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ ﴿2﴾
قرآن سکھایا.[1]
اِس قرآن کی تعلیم دی ہے
نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ ﴿3﴾
اسی نے انسان کو پیدا کیا.[1]
اُسی نے انسان کو پیدا کیا
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
عَلَّمَهُ ٱلْبَيَانَ ﴿4﴾
اور اسے بولنا سکھایا.[1]
اور اسے بولنا سکھایا
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا
ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانٍۢ ﴿5﴾
آفتاب اور ماہتاب (مقرره) حساب سے ہیں.[1]
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں
سورج اور چاند حساب سے ہیں
وَٱلنَّجْمُ وَٱلشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿6﴾
اور ستارے اور درخت دونوں سجده کرتے ہیں.[1]
اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں
اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں
وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلْمِيزَانَ ﴿7﴾
اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی.[1]
آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی
أَلَّا تَطْغَوْا۟ فِى ٱلْمِيزَانِ ﴿8﴾
تاکہ تم تولنے میں تجاوز نہ کرو.[1]
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو
وَأَقِيمُوا۟ ٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا۟ ٱلْمِيزَانَ ﴿9﴾
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو.
انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو
اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،
وَٱلْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿10﴾
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی.
زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا
اور زمین رکھی مخلوق کے لیے
فِيهَا فَٰكِهَةٌۭ وَٱلنَّخْلُ ذَاتُ ٱلْأَكْمَامِ ﴿11﴾
جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں.[1]
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں
اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں
وَٱلْحَبُّ ذُو ٱلْعَصْفِ وَٱلرَّيْحَانُ ﴿12﴾
اور بھس واﻻ اناج ہے[1] ۔ اور خوشبودار پھول ہیں.
طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی
اور بھُس کے ساتھ اناج اور خوشبو کے پھول،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿13﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ كَٱلْفَخَّارِ ﴿14﴾
اس نےانسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی.[1]
انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا
اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری
وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍۢ مِّن نَّارٍۢ ﴿15﴾
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا.[1]
اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا
اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿16﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
رَبُّ ٱلْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ ٱلْمَغْرِبَيْنِ ﴿17﴾
وه رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا[1]
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے
دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿18﴾
تو (اے جنو اورانسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿19﴾
اس نے دو دریا جاری کر دیے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں.
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں
اس نے دو سمندر بہائے کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌۭ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿20﴾
ان دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے.[1]
پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے
اور ہے ان میں روک کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿21﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
يَخْرُجُ مِنْهُمَا ٱللُّؤْلُؤُ وَٱلْمَرْجَانُ ﴿22﴾
ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں.[1]
اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿23﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٰمِ ﴿24﴾
اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں وه جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں.[1]
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿25﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۢ ﴿26﴾
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں.
ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے
زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ ﴿27﴾
صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی.
اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے
اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿28﴾
پھرتم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍۢ ﴿29﴾
سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں[1] ۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے.[2]
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اسے ہر دن ایک کام ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿30﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ ﴿31﴾
(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے.[1]
اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿32﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے؟
(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَٰنٍۢ ﴿33﴾
اے گروه جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو[1] ! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے.[2]
اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے
اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿34﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌۭ مِّن نَّارٍۢ وَنُحَاسٌۭ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿35﴾
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا[1] پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے.[2]
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے
تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلا نہ لے سکو گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿36﴾
پھر اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةًۭ كَٱلدِّهَانِ ﴿37﴾
پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑه.[1]
پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟
پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿38﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌۭ وَلَا جَآنٌّۭ ﴿39﴾
اس دن کسی انسان اورکسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی.[1]
اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی
تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿40﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
يُعْرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَٰصِى وَٱلْأَقْدَامِ ﴿41﴾
گناه گار صرف حلیہ ہی سے پہچان لیے جائیں گے[1] اور ان کی پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لیے جائیں گے.[2]
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿42﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا ٱلْمُجْرِمُونَ ﴿43﴾
یہ ہے وه جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے.
(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے
یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍۢ ﴿44﴾
اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے.[1]
اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے
پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿45﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ ﴿46﴾
اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں.[1]
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿47﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
ذَوَاتَآ أَفْنَانٍۢ ﴿48﴾
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں.[1]
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور
بہت سی ڈالوں والیاں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿49﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ﴿50﴾
ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں.[1]
دونوں باغوں میں دو چشمے رواں
ان میں دو چشمے بہتے ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿51﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَٰكِهَةٍۢ زَوْجَانِ ﴿52﴾
ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میوؤں کی دو قسمیں ہوگی.[1]
دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں
ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿53﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍۢ ۚ وَجَنَى ٱلْجَنَّتَيْنِ دَانٍۢ ﴿54﴾
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے[1] ، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے.[2]
جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿55﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌۭ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّۭ ﴿56﴾
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاه والی حوریں ہیں[1] جنہیں ان سے پہلے کسی جن وانس نے ہاتھ نہیں لگایا.[2]
اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا
ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِن نے،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿57﴾
پس اپنے پالنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
كَأَنَّهُنَّ ٱلْيَاقُوتُ وَٱلْمَرْجَانُ ﴿58﴾
وه حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی.[1]
ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی
گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿59﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَٰنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَٰنُ ﴿60﴾
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے.[1]
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے
نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿61﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿62﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں.[1]
اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿63﴾
پس تم اپنے پرورش کرنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
مُدْهَآمَّتَانِ ﴿64﴾
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں.[1]
گھنے سرسبز و شاداب باغ
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿65﴾
بتاؤ اب اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿66﴾
ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں.[1]
دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے
ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿67﴾
پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِمَا فَٰكِهَةٌۭ وَنَخْلٌۭ وَرُمَّانٌۭ ﴿68﴾
ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے.[1]
اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿69﴾
کیا اب بھی رب کی کسی نعمت کی تکذیب تم کرو گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
فِيهِنَّ خَيْرَٰتٌ حِسَانٌۭ ﴿70﴾
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں.[1]
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿71﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
حُورٌۭ مَّقْصُورَٰتٌۭ فِى ٱلْخِيَامِ ﴿72﴾
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں.[1]
خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں
حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿73﴾
پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌۭ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّۭ ﴿74﴾
ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل.
اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا
ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿75﴾
پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کے ساتھ تم تکذیب کرتے ہو؟
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍۢ وَعَبْقَرِىٍّ حِسَانٍۢ ﴿76﴾
سبز مسندوں اور عمده فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے.[1]
وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے
تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر،
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿77﴾
پس (اے جنو اور انسانو!) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[1]
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
تَبَٰرَكَ ٱسْمُ رَبِّكَ ذِى ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ ﴿78﴾
تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے[1] جو عزت وجلال واﻻ ہے.
بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام
بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،