بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ طسٓمٓ ﴿1﴾
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi
طٰسم.
ابوالاعلی مودودی
ط س م
احمد رضا خان
طٰسم
Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.
Changing languages or editions keeps the current surah and verse.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ طسٓمٓ ﴿1﴾
طٰسم.
ط س م
طٰسم
تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿2﴾
یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
یہ آیتیں ہیں روشن کتا ب کی
لَعَلَّكَ بَٰخِعٌۭ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ ﴿3﴾
ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.[1]
اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے
کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةًۭ فَظَلَّتْ أَعْنَٰقُهُمْ لَهَا خَٰضِعِينَ ﴿4﴾
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.[1]
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍۢ مِّنَ ٱلرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهُ مُعْرِضِينَ ﴿5﴾
اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
اور نہیں آتی ان کے پاس رحمٰان کی طرف سے کوئی نئی نصیحت مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنۢبَٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿6﴾
ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]
اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں
تو بیشک انہوں نے جھٹلایا تو اب ان پر آیا چاہتی ہیں خبریں ان کے ٹھٹھے کی
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلْأَرْضِ كَمْ أَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍۢ كَرِيمٍ ﴿7﴾
کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟[1]
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
کیا انہوں نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں کتنے عزت والے جوڑے اگائے
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿8﴾
بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے[1] اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.[2]
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿9﴾
اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.[1]
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے
وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئْتِ ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ﴿10﴾
اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.[1]
اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،
قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ ﴿11﴾
قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟"
جو فرعون کی قوم ہے کیا وہ نہ ڈریں گے
قَالَ رَبِّ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.
اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
عرض کی کہ اے میرے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا ئیں گے،
وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَٰرُونَ ﴿13﴾
اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے[1] میری زبان چل نہیں رہی[2] پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.[3]
میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں
اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی تو توُ ہا رون کو بھی رسول کر،
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنۢبٌۭ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾
اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.[1]
اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے"
اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے تو میں ڈرتا ہو ں کہیں مجھے کر دیں،
قَالَ كَلَّا ۖ فَٱذْهَبَا بِـَٔايَٰتِنَآ ۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ ﴿15﴾
جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ[1] ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.[2]
فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے
فرما یا یوں نہیں تم دو نوں میری آئتیں لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿16﴾
تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.
فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے
تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اسکے رسل ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا،
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ﴿17﴾
کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.[1]
کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے"
کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے
قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًۭا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ ﴿18﴾
فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟[1] اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟[2]
فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے
بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہما رے یہا ں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، ف۲۰)
وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ ٱلَّتِى فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ ﴿19﴾
پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.[1]
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے"
اور تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم نا شکر تھے
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذًۭا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ ﴿20﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.[1]
موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا
موسٰی نے فر ما یا میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْمًۭا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿21﴾
پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.[1]
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیا
تو میں تمھا رے یہا ں سے نکل گیا جب کے تم سے ڈرا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں سے کیا،
وَتِلْكَ نِعْمَةٌۭ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ﴿22﴾
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.[1]
رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا"
اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غَلام بناکر رکھے بنی اسرائیل
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿23﴾
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟[1]
فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟"
فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿24﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.
موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو"
موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ﴿25﴾
فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟[1]
فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"
اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں
قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿26﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.
موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں"
موسیٰ نے فرمایا رب تمہارا اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا
قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌۭ ﴿27﴾
فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.
فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"
بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے
قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ﴿28﴾
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب[1] ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں"
موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم (مغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں عقل ہو
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ ﴿29﴾
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.[1]
فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں"
بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا
قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿30﴾
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟[1]
موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟"
فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں
قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ﴿31﴾
فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.
فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے"
کہا تو لاؤ اگر سچے ہو،
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ ﴿32﴾
آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.[1]
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھا
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ ﴿33﴾
اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.[1]
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا
اور اپنا ہاتھ نکالا تو جبھی وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا
قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌۭ ﴿34﴾
فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.[1]
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے
بولا اپنے گرد کے سرداروں سے کہ بیشک یہ دانا جادوگر ہیں،
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ ﴿35﴾
یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.[1]
چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟"
چاہتے ہیں، کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ ﴿36﴾
ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.
انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
وہ بولے انہیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍۢ ﴿37﴾
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.[1]
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"
کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو
فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوْمٍۢ مَّعْلُومٍۢ ﴿38﴾
پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.[1]
چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئے
تو جمع کیے گئے جادوگر ایک مقرر دن کے وعدے پر
وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ ﴿39﴾
اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟[1]
اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟
اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہوگئے
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَٰلِبِينَ ﴿40﴾
تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.
شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے"
شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُوا۟ لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ ﴿41﴾
جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟
جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟"
پھر جب جادوگر آئے فرعون سے بولے کیا ہمیں کچھ مزدوری ملے گی اگر ہم غالب آئے،
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ﴿42﴾
فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.
اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے"
بولا ہاں اور اس وقت تم میرے مقرب ہوجاؤ گے
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُوا۟ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ ﴿43﴾
(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.[1]
موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"
موسیٰ نے ان سے فرمایا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے
فَأَلْقَوْا۟ حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا۟ بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ ٱلْغَٰلِبُونَ ﴿44﴾
انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.[1]
انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے،
فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴿45﴾
اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا
فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ ﴿46﴾
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
اب سجدہ میں گرے،
قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿47﴾
اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.
اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو
جادوگر، بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے،
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ﴿48﴾
یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.
موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو"
جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے،
قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿49﴾
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے[1] ، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.[2]
فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا"
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا تو اب جاننا چاہتے ہو مجھے قسم ہے! بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا
قَالُوا۟ لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ﴿50﴾
انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں[1] ، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.
انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے
وہ بولے کچھ نقصان نہیں ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿51﴾
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں[1] ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں"
ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِىٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿52﴾
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.[1]
ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا"
اور ہم نے موسٰی کو وحی بھیجی کہ راتوں را ت میرے بندو ں کو لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے، ف۵۵)
فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ ﴿53﴾
فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.
اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے
اب فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌۭ قَلِيلُونَ ﴿54﴾
کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.[1]
(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں
کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں،
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ ﴿55﴾
اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.[1]
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے
اور بیشک ہم سب کا دل جلاتے ہیں
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ ﴿56﴾
اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.[1]
اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے"
اور بیشک ہم سب چوکنے ہیں
فَأَخْرَجْنَٰهُم مِّن جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ ﴿57﴾
بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.
اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں
تو ہم نے انہیں باہر نکالا باغوں اور چشموں،
وَكُنُوزٍۢ وَمَقَامٍۢ كَرِيمٍۢ ﴿58﴾
اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.[1]
اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے
اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے،
كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَٰهَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ﴿59﴾
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.[1]
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا
ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ ﴿60﴾
پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.[1]
صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے
تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے،
فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ﴿61﴾
پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.[1]
جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"
پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا
قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ ﴿62﴾
موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.[1]
موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا"
موسیٰ نے فرمایا یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے،
فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍۢ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ ﴿63﴾
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار[1] ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.[2]
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا
تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ ٱلْءَاخَرِينَ ﴿64﴾
اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.[1]
اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے
اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو
وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ﴿65﴾
اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.
موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا
اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو
ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْءَاخَرِينَ ﴿66﴾
پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.[1]
اور دوسروں کو غرق کر دیا
پھر دوسروں کو ڈبو دیا
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿67﴾
یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.[1]
اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿68﴾
اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے
وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَٰهِيمَ ﴿69﴾
انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.
اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ
اور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا تَعْبُدُونَ ﴿70﴾
جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟"
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو
قَالُوا۟ نَعْبُدُ أَصْنَامًۭا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ ﴿71﴾
انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.[1]
انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں"
بولے ہم بتوں کو پوجتے ہیں پھر ان کے سامنے آسن مارے رہتے ہیں،
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ ﴿72﴾
آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟
فرمایا کیا وہ تمہاری سنتے ہیں جب تم پکارو،
أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ ﴿73﴾
یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.[1]
یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"
یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے ہیں
قَالُوا۟ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ﴿74﴾
انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.[1]
انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے"
بولے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا،
قَالَ أَفَرَءَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ﴿75﴾
آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی[1] ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.
اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم
فرمایا تو کیا تم دیکھتے ہو یہ جنہیں پوج رہے ہو،
أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ ﴿76﴾
تم اور تمہارے اگلے باپ دادا.
اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟
تم اور تمہارے اگلے باپ دادا
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّۭ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿77﴾
وه سب میرے دشمن ہیں.[1] بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.[2]
میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے
بیشک وہ سب میرے دشمن ہیں مگر پروردگار عالم
ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ ﴿78﴾
جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.[1]
جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے
وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہ مجھے راہ دے گا
وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ ﴿79﴾
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.[1]
جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ﴿80﴾
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.[1]
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ ﴿81﴾
اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا[1]
جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا
اور وہ مجھے وفات دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا
وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ﴿82﴾
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.[1]
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"
اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا
رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ ﴿83﴾
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ[1] عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.
(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا
اے میرے رب مجھے حکم عطا کر اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں
وَٱجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍۢ فِى ٱلْءَاخِرِينَ ﴿84﴾
اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1]
اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر
اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں
وَٱجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ ﴿85﴾
مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.
اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما
اور مجھے ان میں کر جو چین کے باغوں کے وارث ہیں
وَٱغْفِرْ لِأَبِىٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ ﴿86﴾
اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1]
اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے
اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہ،
وَلَا تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ ﴿87﴾
اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1]
اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے
اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌۭ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾
جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.
جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد
جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے،
إِلَّا مَنْ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلْبٍۢ سَلِيمٍۢ ﴿89﴾
لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو"
مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر
وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿90﴾
اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.
(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی
اور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ ﴿91﴾
اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.[1]
اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی
اور ظاہر کی جائے گی دوزخ گمراہوں کے لیے،
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ﴿92﴾
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے،
مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ ﴿93﴾
جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے[1] ، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.
کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"
اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا بدلہ لیں گے،
فَكُبْكِبُوا۟ فِيهَا هُمْ وَٱلْغَاوُۥنَ ﴿94﴾
پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.[1]
پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ
تو اوندھا دیے گئے جہنم میں وہ اور سب گمراہ
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ﴿95﴾
اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر[1] بھی، وہاں.
اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے
اور ابلیس کے لشکر سارے
قَالُوا۟ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ﴿96﴾
آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے
کہیں گے اور وہ اس میں باہم جھگڑے ہوں گے،
تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ ﴿97﴾
کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.
کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے
خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے،
إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿98﴾
جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.[1]
جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے
جبکہ انہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے،
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلْمُجْرِمُونَ ﴿99﴾
اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.[1]
اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا
اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے
فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ ﴿100﴾
اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.
اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے
تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں
وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍۢ ﴿101﴾
اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.[1]
اور نہ کوئی جگری دوست
اور نہ کوئی غم خوار دوست
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةًۭ فَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿102﴾
اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.[1]
کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں"
تو کسی طرح ہمیں پھر جانا ہوتا کہ ہم مسلمان ہوجاتے،
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿103﴾
یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے[1] ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.[2]
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت ایمان والے نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿104﴾
یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے،
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿105﴾
قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.[1]
قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا
نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا
إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿106﴾
جبکہ ان کے بھائی[1] نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
جبکہ ان سے ان کے ہم قوم نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿107﴾
سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.[1]
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿108﴾
پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.[1]
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿109﴾
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.[1]
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿110﴾
پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.[1]
پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو"
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
۞ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلْأَرْذَلُونَ ﴿111﴾
قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.[1]
انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟"
بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں
قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿112﴾
آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟[1]
نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں
فرمایا مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّى ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ ﴿113﴾
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ[1] ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو
ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے اگر تمہیں حِس ہو
وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿114﴾
میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.[1]
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں
اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں
إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ ﴿115﴾
میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.[1]
میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں"
میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا
قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمَرْجُومِينَ ﴿116﴾
انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.
انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا"
بولے اے نوح! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے
قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِ ﴿117﴾
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.
نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا
فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحًۭا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِىَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿118﴾
پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے"
تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں کو نجات دے
فَأَنجَيْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ﴿119﴾
چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.
آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا
تو ہم نے بچالیا اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں
ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ ٱلْبَاقِينَ ﴿120﴾
بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.[1]
اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا
پھر اس کے بعد ہم نے باقیوں کو ڈبو دیا،
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿121﴾
یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿122﴾
اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
كَذَّبَتْ عَادٌ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿123﴾
عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا
إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿124﴾
جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
جبکہ ان سے ان کے ہم قوم ہود نے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں،
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿125﴾
میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں،
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿126﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿127﴾
میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب،
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةًۭ تَعْبَثُونَ ﴿128﴾
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.[1]
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو
کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾
اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.[1]
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے
اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے
وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ ﴿130﴾
اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.[1]
اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو
اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی سے گرفت کرتے ہو
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿131﴾
اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.[1]
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِىٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ ﴿132﴾
اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.
ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو
اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے کہ تمہیں معلوم ہیں
أَمَدَّكُم بِأَنْعَٰمٍۢ وَبَنِينَ ﴿133﴾
اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.
تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں
تمہاری مدد کی چوپایوں اور بیٹوں،
وَجَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ ﴿134﴾
باغات سے اور چشموں سے.
باغ دیے اور چشمے دیے
اور باغوں اور چشموں سے،
إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿135﴾
مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.[1]
مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے"
بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا
قَالُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ ٱلْوَٰعِظِينَ ﴿136﴾
انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.
انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے
بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو
إِنْ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿137﴾
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.[1]
یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں
یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ﴿138﴾
اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.[1]
اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"
اور ہمیں عذاب ہونا نہیں
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَٰهُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿139﴾
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا[1] یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے انہیں بلاک کیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿140﴾
بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿141﴾
ﺛمودیوں[1] نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،
إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿142﴾
ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
جبکہ ان سے ان کے ہم قوم صا لح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿143﴾
میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿144﴾
تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿145﴾
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اور میں تم سے کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
أَتُتْرَكُونَ فِى مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ ﴿146﴾
کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.[1]
کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟
کیا تم یہاں کی نعمتوں میں چین سے چھوڑ دیے جاؤ گے
فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ ﴿147﴾
یعنی ان باغوں اور ان چشموں.
اِن باغوں اور چشموں میں؟
باغوں اور چشموں،
وَزُرُوعٍۢ وَنَخْلٍۢ طَلْعُهَا هَضِيمٌۭ ﴿148﴾
اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.[1]
اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟
اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم نازک،
وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا فَٰرِهِينَ ﴿149﴾
اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.[1]
تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو
اور پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو استادی سے
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿150﴾
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْرِفِينَ ﴿151﴾
بے باک حد سے گزر جانے والوں کی[1] اطاعت سے باز آجاؤ.
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو
اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو
ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ﴿152﴾
جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.
جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے"
وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے
قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ﴿153﴾
وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.
انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے
بولے تم پر تو جادو ہوا ہے
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ﴿154﴾
تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.
تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے"
تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو، تو کوئی نشانی لاؤ اگر سچے ہو
قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٌۭ لَّهَا شِرْبٌۭ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍۢ مَّعْلُومٍۢ ﴿155﴾
آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.[1]
صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا
فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری اور ایک معین دن تمہاری باری،
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿156﴾
(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.[1]
اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"
اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَٰدِمِينَ ﴿157﴾
پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں[1]، بس وه پشیمان ہوگئے.[2]
مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے
اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے
فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿158﴾
اور عذاب نے انہیں آ دبوچا[1] ۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
تو انہیں عذاب نے آلیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿159﴾
اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿160﴾
قوم لوط[1] نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،
إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿161﴾
ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
جب کہ ان سے ان کے ہم قوم لوط نے فرمایا کیا تم نہیں ڈرتے،
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿162﴾
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿163﴾
پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿164﴾
میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جان کا رب ہے،
أَتَأْتُونَ ٱلذُّكْرَانَ مِنَ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿165﴾
کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.
کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو
کیا مخلوق میں مردوں سے بدفعلی کرتے ہو
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ ﴿166﴾
اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو[1] ، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.[2]
اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"
اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو
قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُخْرَجِينَ ﴿167﴾
انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.[1]
انہوں نے کہا “اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا"
بولے اے لوط! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دیے جاؤ گے
قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلْقَالِينَ ﴿168﴾
آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.[1]
اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں
فرمایا میں تمہارے کام سے بیزار ہوں
رَبِّ نَجِّنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ ﴿169﴾
میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.
اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے"
اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا
فَنَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ﴿170﴾
پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.
آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا
تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی
إِلَّا عَجُوزًۭا فِى ٱلْغَٰبِرِينَ ﴿171﴾
بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.[1]
بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی
ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْءَاخَرِينَ ﴿172﴾
پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا،
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ﴿173﴾
اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.[1]
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی
اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرائے گئیوں کا،
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿174﴾
یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿175﴾
بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،
كَذَّبَ أَصْحَٰبُ لْـَٔيْكَةِ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿176﴾
اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا[1]
اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا
بن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿177﴾
جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
جب ان سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں،
إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌۭ ﴿178﴾
میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿179﴾
اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿180﴾
میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے
۞ أَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُخْسِرِينَ ﴿181﴾
ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.[1]
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو
ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو
وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيمِ ﴿182﴾
اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.[1]
صحیح ترازو سے تولو
اور سیدھی ترازو سے تولو،
وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿183﴾
لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو[1] بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.[2]
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو
وَٱتَّقُوا۟ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلْجِبِلَّةَ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿184﴾
اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.[1]
اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"
اور اس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو،
قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ ﴿185﴾
انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.
انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے
بولے تم پر جادو ہوا ہے،
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ﴿186﴾
اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.[1]
اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں
تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ﴿187﴾
اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.[1]
اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"
تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو
قَالَ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿188﴾
کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.[1]
شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو"
فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (کرتوت) ہیں
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿189﴾
چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا[1] ۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.
انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿190﴾
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ﴿191﴾
اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
اور بیشک تمہارار ب ہی عزت والا مہربان ہے،
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿192﴾
اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.
یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے
اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے،
نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلْأَمِينُ ﴿193﴾
اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.[1]
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے
اسے روح الا مین لے کر اترا
عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ﴿194﴾
آپ کے دل پر اترا ہے[1] کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.[2]
تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں
تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ،
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّۢ مُّبِينٍۢ ﴿195﴾
صاف عربی زبان میں ہے.
صاف صاف عربی زبان میں
روشن عربی زبان میں،
وَإِنَّهُۥ لَفِى زُبُرِ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿196﴾
اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.[1]
اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے
اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے
أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُۥ عُلَمَٰٓؤُا۟ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ﴿197﴾
کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.[1]
کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟
اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم
وَلَوْ نَزَّلْنَٰهُ عَلَىٰ بَعْضِ ٱلْأَعْجَمِينَ ﴿198﴾
اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.
(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے
اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے،
فَقَرَأَهُۥ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ مُؤْمِنِينَ ﴿199﴾
پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.[1]
اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے
کہ وہ انہیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے
كَذَٰلِكَ سَلَكْنَٰهُ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ ﴿200﴾
اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.[1]
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے
ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ ﴿201﴾
وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب،
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿202﴾
پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.
پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے
تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی،
فَيَقُولُوا۟ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ ﴿203﴾
اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟[1]
اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ “کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟"
تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴿204﴾
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟[1]
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟
تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَٰهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں
بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں
ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ﴿206﴾
پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.
اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے
پھر آئے ان پر جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں
مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ ﴿207﴾
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.[1]
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟
تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ ﴿208﴾
ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے
اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،
ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ﴿209﴾
نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.[1]
اور ہم ظالم نہ تھے
نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ ﴿210﴾
اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.
اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں
او راس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے
وَمَا يَنۢبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿211﴾
نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.
نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں
اور وہ اس قابل نہیں اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں
إِنَّهُمْ عَنِ ٱلسَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ﴿212﴾
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.[1]
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں
وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں
فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِينَ ﴿213﴾
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.
پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے
تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.[1]
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ
اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ
وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿215﴾
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ
اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿216﴾
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں
تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بے علاقہ ہوں،
وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ﴿217﴾
اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.
اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو
اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے
ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ ﴿218﴾
جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.
جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو
جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو
وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّٰجِدِينَ ﴿219﴾
اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.[1]
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے
اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ﴿220﴾
وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.
وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
بیشک وہی سنتا جانتا ہے
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ ﴿221﴾
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟
کیا میں تمہیں بتادوں کہ کس پر اترتے ہیں شیطان،
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍۢ ﴿222﴾
وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.[1]
وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں
اترتے ہیں بڑے بہتان والے گناہگار پر
يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَٰذِبُونَ ﴿223﴾
(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.[1]
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں
شیطان اپنی سنی ہوئی ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ ﴿224﴾
شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں
اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍۢ يَهِيمُونَ ﴿225﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں
کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿226﴾
اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.[1]
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں
اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٍۢ يَنقَلِبُونَ ﴿227﴾
سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے[1] اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا[2]، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.[3]
بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں
مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے