Skip to content
Text size 100%
Translation comparison

Compare Ya-Sin Quran translations

Compare up to three verified translation editions verse by verse, including editions in two different languages.

Urdu editions (choose up to 3)

Changing languages or editions keeps the current surah and verse.

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يسٓ ﴿1﴾

محمد حسین نجفی

یاسین(ص)۔

وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيمِ ﴿2﴾

محمد حسین نجفی

قرآنِ حکیم کی قسم۔

إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿3﴾

محمد حسین نجفی

یقیناً آپ(ص) (خدا کے) رسولوں میں سے ہیں۔

عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ﴿4﴾

محمد حسین نجفی

(اور) سیدھے راستے پر ہی ہیں۔

تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ﴿5﴾

محمد حسین نجفی

(یہ قرآنِ) عزیز (غالب اور) بڑے مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔

لِتُنذِرَ قَوْمًۭا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَٰفِلُونَ ﴿6﴾

محمد حسین نجفی

تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو (براہِ راست کسی پیغمبر سے) ڈرایا نہیں گیا اس لئے وہ غافل ہیں۔

لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَىٰٓ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿7﴾

محمد حسین نجفی

ان میں سے اکثر پر (ان کے تعصب و عناد کی وجہ سے) یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

إِنَّا جَعَلْنَا فِىٓ أَعْنَٰقِهِمْ أَغْلَٰلًۭا فَهِىَ إِلَى ٱلْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ ﴿8﴾

محمد حسین نجفی

ہم نے (ان کے پیہم کفر و عناد کی وجہ سے گویا) ان کی گردنوں میں (گمراہی اور شیطان کی غلامی کے) طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں اس لئے وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں (لہٰذا وہ سر جھکا نہیں سکتے)۔

وَجَعَلْنَا مِنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّۭا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّۭا فَأَغْشَيْنَٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ﴿9﴾

محمد حسین نجفی

اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر دی ہے (اس طرح) ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے پس وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔

وَسَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿10﴾

محمد حسین نجفی

ان کیلئے (دونوں باتیں) برابر ہیں خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ وَخَشِىَ ٱلرَّحْمَٰنَ بِٱلْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍۢ وَأَجْرٍۢ كَرِيمٍ ﴿11﴾

محمد حسین نجفی

آپ تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمن سے ڈرے پس ایسے شخص کو مغفرت (بخشش) اور عمدہ اجر کی خوشخبری دے دیں۔

إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَٰرَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَٰهُ فِىٓ إِمَامٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿12﴾

محمد حسین نجفی

بے شک ہم ہی مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان کے وہ اعمال لکھ لیتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے ہیں اور ان کے وہ آثار بھی ثبت کرتے ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین میں جمع کر دیا ہے۔

وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَٰبَ ٱلْقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ﴿13﴾

محمد حسین نجفی

اور (ان کو سمجھانے کیلئے) بطورِ مثال ایک خاص بستی کا قصہ سنائیں جب ان کے پاس (ہمارے) پیغام رساں آئے۔

إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍۢ فَقَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ ﴿14﴾

محمد حسین نجفی

(پہلے) ہم نے ان کی طرف دو (رسول) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تیسرے (رسول) کے ساتھ تقویت دی۔ چنانچہ تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں۔

قَالُوا۟ مَآ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحْمَٰنُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ﴿15﴾

محمد حسین نجفی

ان لوگوں نے کہا تم بس ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدائے رحمٰن نے (تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم بالکل جھوٹ بول رہے ہو۔

قَالُوا۟ رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّآ إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ ﴿16﴾

محمد حسین نجفی

رسولوں(ع) نے کہا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔

وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ ﴿17﴾

محمد حسین نجفی

اور ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ہم (خدا کا پیغام) صاف صاف پہنچا دیں۔

قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا۟ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ﴿18﴾

محمد حسین نجفی

تو بستی والوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں (کہ تمہارے آنے سے قحط پڑ گیا ہے) اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی۔

قَالُوا۟ طَٰٓئِرُكُم مَّعَكُمْ ۚ أَئِن ذُكِّرْتُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ ﴿19﴾

محمد حسین نجفی

رسولوں نے کہا کہ تمہاری فالِ بد تو تمہارے ساتھ ہے! کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو یہ بات بدشگونی ہے)؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔

وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٌۭ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿20﴾

محمد حسین نجفی

اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور کہا اے میری قوم! رسولوں(ع) کی پیروی کرو۔

ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُكُمْ أَجْرًۭا وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿21﴾

محمد حسین نجفی

ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور خود ہدایت یافتہ بھی ہیں۔

وَمَا لِىَ لَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِى فَطَرَنِى وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿22﴾

محمد حسین نجفی

مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس ہستی کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے حالانکہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔

ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدْنِ ٱلرَّحْمَٰنُ بِضُرٍّۢ لَّا تُغْنِ عَنِّى شَفَٰعَتُهُمْ شَيْـًۭٔا وَلَا يُنقِذُونِ ﴿23﴾

محمد حسین نجفی

کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے خداؤں کو اختیار کروں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے اور نہ ہی وہ مجھے چھڑا سکیں۔

إِنِّىٓ إِذًۭا لَّفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ ﴿24﴾

محمد حسین نجفی

(اگر میں ایسا کروں) تو میں اس وقت کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوں گا۔

إِنِّىٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمْ فَٱسْمَعُونِ ﴿25﴾

محمد حسین نجفی

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں تم میری بات (کان لگا کر) سنو (اور ایمان لے آؤ)۔

قِيلَ ٱدْخُلِ ٱلْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَٰلَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُونَ ﴿26﴾

محمد حسین نجفی

(انجامِ کار ان لوگوں نے اس مؤمن کو سنگسار کر دیا اور اس سے) کہا گیا کہ بہشت میں داخل ہو جا۔ وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔

بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْرَمِينَ ﴿27﴾

محمد حسین نجفی

کہ میرے پروردگار نے کس وجہ سے مجھے بخش دیا ہے اور مجھے معزز لوگوں میں سے قرار دیا ہے۔

۞ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِن جُندٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ﴿28﴾

محمد حسین نجفی

اور ہم نے اس (کی شہادت) کے بعد نہ تو اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر اتارا اور نہ ہی ہم کو (اتنی سی بات کیلئے لشکر) اتارنے کی ضرورت تھی۔

إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَإِذَا هُمْ خَٰمِدُونَ ﴿29﴾

محمد حسین نجفی

وہ (سزا) تو صرف ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔

يَٰحَسْرَةً عَلَى ٱلْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ﴿30﴾

محمد حسین نجفی

افسوس ہے (ایسے) بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ ﴿31﴾

محمد حسین نجفی

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور) وہ کبھی ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

وَإِن كُلٌّۭ لَّمَّا جَمِيعٌۭ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ ﴿32﴾

محمد حسین نجفی

(ہاں البتہ) وہ سب (ایک بار) ہماری بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔

وَءَايَةٌۭ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّۭا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ ﴿33﴾

محمد حسین نجفی

اور (ہماری نشانیوں میں سے) ان کیلئے ایک نشانی وہ مردہ زمین ہے جسے ہم نے زندہ کر دیا اور اس سے دانہ (غلہ) نکالا جس سے وہ کھاتے ہیں۔

وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّٰتٍۢ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَٰبٍۢ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ ﴿34﴾

محمد حسین نجفی

اور ہم نے اس (زمین) میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے اور اس سے چشمے جاری کر دیئے۔

لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ﴿35﴾

محمد حسین نجفی

تاکہ وہ اس کے پھلوں سے کھائیں حالانکہ یہ ان کے ہاتھوں کی کارگزاری نہیں ہے کیا یہ لوگ (اس پر بھی) شکر ادا نہیں کرتے؟

سُبْحَٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ﴿36﴾

محمد حسین نجفی

پاک ہے وہ ذات جس نے سب اقسام کے جوڑے جوڑے پیدا کئے ہیں خواہ (نباتات) ہو جسے زمین اگاتی ہے یا خود ان کے نفوس ہوں (بنی نوع انسان) یا وہ چیزیں ہوں جن کو یہ نہیں جانتے۔

وَءَايَةٌۭ لَّهُمُ ٱلَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ ﴿37﴾

محمد حسین نجفی

اور ان کیلئے ایک نشانی رات بھی ہے جس سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو ایک دم وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

وَٱلشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّۢ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ ﴿38﴾

محمد حسین نجفی

اور (ایک نشانی) سورج ہے جو اپنے مقررہ ٹھکانے (مدار) کی طرف چل رہا ہے (گردش کر رہا ہے) یہ اندازہ اس (خدا) کا مقرر کیا ہوا ہے جو غالب ہے (اور) بڑا علم والا۔

وَٱلْقَمَرَ قَدَّرْنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلْعُرْجُونِ ٱلْقَدِيمِ ﴿39﴾

محمد حسین نجفی

اور (ایک نشانی) چاند بھی ہے جس کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ (آخر میں) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔

لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلْقَمَرَ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ ۚ وَكُلٌّۭ فِى فَلَكٍۢ يَسْبَحُونَ ﴿40﴾

محمد حسین نجفی

نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات کیلئے ممکن ہے کہ وہ دن پر سبقت لے جائے اور سب (اپنے) ایک ایک فلک (دائرہ) میں تیر رہے ہیں۔

وَءَايَةٌۭ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ﴿41﴾

محمد حسین نجفی

اور ان کیلئے (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی (نوح(ع)) میں سوار کیا۔

وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ ﴿42﴾

محمد حسین نجفی

اور ان کیلئے (خشکی اور تری) میں کشتی کی مانند اور سواریاں پیدا کی ہیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔

وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ ﴿43﴾

محمد حسین نجفی

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد رس ہو اور نہ ہی وہ چھڑائے جا سکیں۔

إِلَّا رَحْمَةًۭ مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ ﴿44﴾

محمد حسین نجفی

مگر یہ کہ ہماری رحمت (شاملِ حال) ہو جائے اور ایک (خاص) وقت تک بہرہ مند کرنا منظور ہو۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُوا۟ مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿45﴾

محمد حسین نجفی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس (انجام و عذاب) سے جو تمہارے آگے ہے اور اس سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے کہ تم پر رحم کیا جائے (تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے)۔

وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍۢ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ﴿46﴾

محمد حسین نجفی

اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی بھی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ﴿47﴾

محمد حسین نجفی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس سے (کچھ) راہِ خدا میں بھی خرچ کرو تو کافر اہلِ ایمان سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں جسے اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو۔

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿48﴾

محمد حسین نجفی

اور وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ (قیامت کا) وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟

مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ ﴿49﴾

محمد حسین نجفی

وہ صرف ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) یعنی نَفَخ صُور کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں اپنی گرفت میں لے لے گی جبکہ یہ لوگ (اپنے معاملات میں) باہم لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔

فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةًۭ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ ﴿50﴾

محمد حسین نجفی

(اس وقت) وہ نہ کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف واپس جا سکیں گے۔

وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ ﴿51﴾

محمد حسین نجفی

اور جب (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف تیز تیز چلنے لگیں گے۔

قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ ﴿52﴾

محمد حسین نجفی

(اس وقت گھبرا کر) کہیں گے ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ (وعید) کیا تھا اور پیغمبروں(ع) نے بھی سچ کہا تھا۔

إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌۭ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ ﴿53﴾

محمد حسین نجفی

بس وہ ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) ہوگی پھر سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے۔

فَٱلْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌۭ شَيْـًۭٔا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿54﴾

محمد حسین نجفی

پس آج کے دن کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔

إِنَّ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ ٱلْيَوْمَ فِى شُغُلٍۢ فَٰكِهُونَ ﴿55﴾

محمد حسین نجفی

بے شک آج بہشتی لوگ اپنے مشغلہ میں خوش ہوں گے۔

هُمْ وَأَزْوَٰجُهُمْ فِى ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ ﴿56﴾

محمد حسین نجفی

وہ اور ان کی بیویاں (گھنے) سایوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔

لَهُمْ فِيهَا فَٰكِهَةٌۭ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ ﴿57﴾

محمد حسین نجفی

وہاں ان کے (کھانے پینے) کیلئے (ہر قسم کے) پھل ہوں گے اور وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔

سَلَٰمٌۭ قَوْلًۭا مِّن رَّبٍّۢ رَّحِيمٍۢ ﴿58﴾

محمد حسین نجفی

(انہیں) مہربان (پروردگار) کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔

وَٱمْتَٰزُوا۟ ٱلْيَوْمَ أَيُّهَا ٱلْمُجْرِمُونَ ﴿59﴾

محمد حسین نجفی

(ارشادِ قدرت ہوگا) اے مجرمو! الگ ہو جاؤ۔

۞ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ﴿60﴾

محمد حسین نجفی

اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا؟ کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

وَأَنِ ٱعْبُدُونِى ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌۭ مُّسْتَقِيمٌۭ ﴿61﴾

محمد حسین نجفی

ہاں البتہ میری عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔

وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّۭا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ ﴿62﴾

محمد حسین نجفی

(اس کے باوجود) اس نے تم میں سے ایک کثیر گروہ کو گمراہ کر دیا کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے؟

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿63﴾

محمد حسین نجفی

یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔

ٱصْلَوْهَا ٱلْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ﴿64﴾

محمد حسین نجفی

آج اپنے کفر کی پاداش میں اس میں داخل ہو جاؤ (اور اس کی آگ تاپو)۔

ٱلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿65﴾

محمد حسین نجفی

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے؟

وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلَىٰٓ أَعْيُنِهِمْ فَٱسْتَبَقُوا۟ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبْصِرُونَ ﴿66﴾

محمد حسین نجفی

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو مٹا دیتے پھر وہ راستہ کی طرف دوڑتے تو ان کو کہاں نظر آتا؟

وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَٰهُمْ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمْ فَمَا ٱسْتَطَٰعُوا۟ مُضِيًّۭا وَلَا يَرْجِعُونَ ﴿67﴾

محمد حسین نجفی

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کی جگہ پر مسخ کرکے رکھ دیتے کہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے پلٹ سکتے۔

وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى ٱلْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ﴿68﴾

محمد حسین نجفی

اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اسے خلقت (ساخت) میں الٹ دیتے ہیں کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟

وَمَا عَلَّمْنَٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ وَقُرْءَانٌۭ مُّبِينٌۭ ﴿69﴾

محمد حسین نجفی

اور ہم نے انہیں شعر و شاعری نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے یہ تو بس ایک نصیحت اور واضح قرآن ہے۔

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّۭا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ ﴿70﴾

محمد حسین نجفی

تاکہ آپ(ص) (اس کی ذریعہ سے) انہیں ڈرائیں جو زندہ (دل) ہیں اور تاکہ کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعَٰمًۭا فَهُمْ لَهَا مَٰلِكُونَ ﴿71﴾

محمد حسین نجفی

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے (غور نہیں کرتے) کہ ہم نے ان کیلئے اپنے دست ہائے قدرت سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے (چنانچہ اب) یہ ان کے مالک ہیں۔

وَذَلَّلْنَٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ ﴿72﴾

محمد حسین نجفی

اور ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کا مطیع کر دیا ہے پس ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔

وَلَهُمْ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ﴿73﴾

محمد حسین نجفی

اور ان کیلئے ان میں اور بھی طرح طرح کے فائدے اور پینے کی چیزیں (دودھ وغیرہ) بھی ہیں تو کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے؟

وَٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةًۭ لَّعَلَّهُمْ يُنصَرُونَ ﴿74﴾

محمد حسین نجفی

اور کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور خدا بنا لئے ہیں کہ شاید ان کی مدد کی جائے گی۔

لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُندٌۭ مُّحْضَرُونَ ﴿75﴾

محمد حسین نجفی

حالانکہ وہ ان کی (کچھ بھی) مدد نہیں کر سکتے (بلکہ) وہ (کفار) ان (بتوں) کی حفاظت اور ان کے (دفاع) کیلئے حاضر باش لشکر ہیں۔

فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ﴿76﴾

محمد حسین نجفی

(اے پیغمبر(ص)) ان لوگوں کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بے شک ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

أَوَلَمْ يَرَ ٱلْإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقْنَٰهُ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ ﴿77﴾

محمد حسین نجفی

کیا انسان یہ نہیں دیکھتا (اس پر غور نہیں کرتا) کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے سو وہ یکایک (ہمارا) کھلا ہوا مخالف بن گیا۔

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًۭا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ ۖ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌۭ ﴿78﴾

محمد حسین نجفی

وہ ہمارے لئے مثالیں پیش کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے وہ کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہو چکی ہوں؟

قُلْ يُحْيِيهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ ﴿79﴾

محمد حسین نجفی

آپ(ص) کہہ دیجئے! انہیں وہی (خدا دوبارہ) زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے۔

ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلْأَخْضَرِ نَارًۭا فَإِذَآ أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ ﴿80﴾

محمد حسین نجفی

(خدا) جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی ہے اس سے (اور) آگ سلگاتے ہو۔

أَوَلَيْسَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ ﴿81﴾

محمد حسین نجفی

کیا وہ (قادرِ مطلق) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان (لوگوں) جیسے (دوبارہ) پیدا کرے؟ ہاں وہ بڑا پیدا کرنے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔

إِنَّمَآ أَمْرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ﴿82﴾

محمد حسین نجفی

اس کا معاملہ تو بس یوں ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ (فوراً) ہو جاتی ہے۔

فَسُبْحَٰنَ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿83﴾

محمد حسین نجفی

پس پاک ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔

Quran recitationReady
Open audio