E-Quranپڑھیں • سنیں • سیکھیں

البقرہ ۲:۱۵۳–۱۵۷ — صبر

منتخب قرآنی آیات عربی متن، اردو ترجمے اور مکمل سورتوں کے روابط کے ساتھ پڑھیں۔

البقرہ ۲:۱۵۳–۱۵۷ — صبر کے متعلق آیات عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔ مکمل سیاق کے لیے سورت کھولیں۔

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔[1]

ⓘ ترجمے کا ماخذ[1] انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں : آرام وراحت (نعمت) یا تکلیف وپریشانی۔ نعمت میں شکر الٰہی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے استعانت کی تاکید ہے۔ حدیث میں ہے مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں (صحيح مسلم ، كتاب الزهد والرقائق ، باب المؤمن أمره كله خير حدیث 2999) صبر کی دو قسمیں ہیں : ایک محرمات اور معاصی کے ترک اور اس سے بچنے پر اور لذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر۔ دوسرا، احکام الٰہیہ کے بجا لانے میں جو مشقتیں اور تکلیفیں آئیں، انہیں صبر وضبط سے برداشت کرنا۔ بعض لوگوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ باتوں پرعمل کرنا چاہے وہ نفس وبدن پر کتنی ہی گراں اور اللہ کی ناپسندیدہ باتوں سے بچنا، چاہے خواہشات ولذات اس کو اس کی طرف کتنا ہی کھینچیں۔ (ابن کثیر)۔
مکمل سورت میں آیت پڑھیں

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور اللہ تعالیٰ کی راه کے شہیدوں کو مرده مت کہو[1] وه زنده ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔

ⓘ ترجمے کا ماخذ[1] شہدا کو مردہ نہ کہنا، ان کے اعزاز وتکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جسے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ زندگی علیٰ قدر مراتب انبیا ومومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کے جوف (یا سینہ) میں جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں (ابن کثیر، نیز دیکھیے آل عمران۔ 169)
مکمل سورت میں آیت پڑھیں

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے۔

مکمل سورت میں آیت پڑھیں

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

مکمل سورت میں آیت پڑھیں

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔[1]

ⓘ ترجمے کا ماخذ[1] ان آیات میں صبر کرنے والوں کے لئے خوش خبریاں ہیں۔ حدیث میں نقصان کے وقت «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» کے ساتھ «اللَّهُمَّ آجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِّنْهَا» پڑھنے کی بھی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنائز باب ما يقال عند المصيبة، حديث 918 )۔
مکمل سورت میں آیت پڑھیں

ترجمے کا ماخذ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3. QuranEnc.com. ترجمے کے اصل ماخذ اور مترجم کا نام برقرار رکھا جاتا ہے۔